Showing posts with label Urdu Story. Show all posts
Showing posts with label Urdu Story. Show all posts

Thursday, October 3, 2013

Urdu Story, Sabak Amooz Wakia, Sacha Wakia,: Allah ki Raza



ﻣﯿﺮﮮ ﭼﭽﺎ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺎﻝ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﮐﯿﻼ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﺻﻮﻓﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﺎ - ﻣﯿﺮﮮ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺗﻢ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺅ ﺍﻭﺭ
ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺮﯼ ﺻﺤﺖ ﺑﺤﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﻭﻧﮕﺎ - ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﯽ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ - ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﺷﻔﺎﻕ ﻣﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻢ ﺟﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﯽ ﮨﻢ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﮈﺍﮐﭩﺮ
ﺑﮍﮮ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻧﺎﻣﯽ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ - ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ - ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﯾﺎﺭ ﺟﯿﺖ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻓﯿﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ - ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﮯ - ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ -

ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮕﮭﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﻠﮯ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮﺍﮞ ﺳﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺏ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻢ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﺳﮯ - ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺮﯾﮕﺎ - ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ - ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ - ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﻒ - ﺍﮮ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺗﮭﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺳﻠﯿﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ - ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺎ - ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﻼﺋﯽ ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﮭﺎ - ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ - ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﭼﭽﺎ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ - ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮨﯿﮟ۔ 

ﺯﺍﻭﯾﮧ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺻﻔﺤﮧ 137 ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ, ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ, ﺗﺼﻮﻑ, ﺯﺍﻭﯾﮧ, ﺯﻧﺪﮔﯽ ﯾﺎ ﻣﻮﺕ, ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ

Urdu Story, Sabak Amooz Kahani, Urdu Kahani : Pension



ایک تحریر جو شاید کسی کی زندگی بدل دے-ضرور شیر کریں - شکریہ

اس نے گاڑی پوسٹ آفس کے باہر روک دی، "ابا یہ لیجیے آپ یہ 100 روپے رکھ لیجیے جب پینشن لے چکیں گے تو رکشے میں گھر چلے جائیے گا، مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے"۔۔
بوڑھے باپ کو اُتار کر وہ تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا آگے نکل گیا، افضل چند لمحے بیٹے کی دور جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھتا رہا پھر ایک ہاتھ میں پینشن کے کاغذ اور ایک ہاتھ میں بیٹے کا دیا ہوا سو روپے کا نوٹ پکڑے وہ اُس لمبی سی قطار کے آخرمیں جا کر کھڑا ہو گیا جس میں اُسی جیسے بہت سے بوڑھے کھڑے تھے، سب کے چہروں پر عمر رفتہ کے نشیب و فراز پرانی قبروں پر لگے دُھندلے کتبوں کی مانند کندہ تھے۔

آج پینشن لینے کا دن تھا، قطار لمبی ہوتی جارہی تھی، پوسٹ آفس کی جانب سے پینشن کی رقم ادا کرنے کا عمل خاصا سست تھا۔ سورج آگ برساتا تیزی سے منزلیں طے کرنے میں مصروف تھا، بے رحم تپتی دھوپ بوڑھوں کو بے حال کرنے لگی، کچھ اُدھر ہی قطار میں ہی بیٹھ گئے، افضل بھی بے حال ہونے لگا، اُس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا اور لڑکھڑا کر اُدھر قطار میں ہی بیٹھ گیا،

اچانک ذہن کے پردے پر اپنے بیٹے کا بچپن ناچنے لگا، وہ جب کبھی اچھلتے کودتے گر جاتا تو وہ کیسے دوڑ کر اُسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیتا تھا، اس کے کپڑوں سے دھول جھاڑتا، اُس کے آنسو نکلنے سے پہلے ہی اُسے پچکارتا، پیار کرتا، مگر آج وہ خود لڑکھڑا کر دھول میں لتھڑ رہا تھا اور اُسے اٹھانے والا اُسے یہاں اس طرح چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ وہ مٹھی کھول کر100 روپے کے اس نوٹ کو دیکھنے لگا جو صبح بیٹا اُس کے ہاتھ میں تھما کر چلا گیا تھا، وہ سوچنے لگا کہ ساری عمر ایمانداری سے ملازمت کر کے، بیٹے کو پڑھا لکھا کر، اُس کی شادی کر کے کیا اُس کی زندگی کا سفر اس 100 روپے کے نوٹ پر آ کر ختم ہو گیا ہے؟