Showing posts with label Stories Urdu. Show all posts
Showing posts with label Stories Urdu. Show all posts

Monday, October 7, 2013

Urdu kahani, sachi kahanian, sache wakiat, sacha wakia

اس خاتون سے ہوائی اڈے پر جہاز کے انتظار میں وقت ہی نہیں کٹ پا رہا تھا۔ کچھ سوچ کر دکان سے جا کر وقت گزاری کیلئے ایک کتاب اور کھانے کیلئے بسکٹ کا ڈبہ خریدا۔ واپس انتظار گاہ میں جا کر کتاب پڑھنا شروع کی۔ اس عورت کے ساتھ ہی دوسری کرسی پر ایک اور مسافر بیٹھا کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ ان دونوں کے درمیان میں لگی میز پر رکھے بسکٹ کے ڈبے سے جب خاتون نے بسکٹ اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو اسے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ اس ساتھ بیٹھے مسافر نے بھی اس ڈبے سے ایک بسکٹ اٹھا لیا تھا۔ خاتون کا غصے کے مارے برا حال ہو رہا تھا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا، ورنہ تو وہ اُس کے منہ پر اس بے ذوقی اور بے ادبی کیلئے تھپڑ تک مارنے کا سوچ رہی تھی۔

اس کی حیرت اس وقت دو چند ہوگئی جب اس نے دیکھا کہ جیسے ہی وہ ڈبے سے ایک بسکٹ اٹھاتی وہ مسافر بھی ایک بسکٹ اٹھا لیتا۔ غصے سے بے حال وہ اپنی جھنجھلاہٹ پر بمشکل قابو رکھ پا رہی تھی۔
جب ڈبے میں آخری بسکٹ آن بچا تو اب اس کے دل میں یہ بات جاننے کی شدید حسرت تھی کہ اب یہ بد تمیز اور بد اخلاق شخص کیا کرے گا، کیا وہ اب بھی اس آخری بسکٹ کی طرف ہاتھ بڑھائے گا یا یہ آخری بسکٹ اس کیلئے رکھ چھوڑے گا؟تاہم اس کی حیرت اپنے عروج پر جا پہنچی جب مسافر نے اس آخریبسکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھا خود اٹھا لیا اور آدھا اس کیلئے چھوڑ دیا تھا۔ خاتون کیلئے اس سے بڑھ کراہانت کی گنجائش نہیں رہتی تھی۔ آدھے بسکٹ کو وہیں ڈبے میں چھوڑ کر، کتاب کو بند کرتے ہوئے، اٹھ کر غصے سے پاؤں پٹختی امیگریشن سے ہوتی ہوئی جہاز کی طرف چل پڑی۔

جہاز میں کرسی پر بیٹھ کر اپنے دستی تھیلے کو اس میں سےعینک نکالنے کیلئے کھولا تو یہ دیکھ کر حیرت سے اس کی جان ہی نکل گئی کہ اس کا خریدا ہوا بسکٹ کا ڈبہ تو جوں کا توں تھیلے میں بند رکھا ہوا تھا۔ندامت اور شرمندگی سے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ اسے اب پتہ چل رہا تھا کہ وہ ہوائی اڈے پر بسکٹ اس شخص کے ڈبے سے نکال کر کھاتی رہی تھی۔

اب دیر سے اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ شخص کس قدر ایک مہذب اور رحمدل انسان تھا، جس نے کسی شکوے اور ہچکچاہٹ کے بغیر اپنے ڈبے سے اسے بسکٹ کھانے کو دیئے تھے۔ وہ جس قدر اس موضوع پر سوچتی اسی قدر شرمدنگیاور خجالت بڑھتی جا رہی تھی۔
اس شرمندگی اور خجالت کا اب مداوا کیا ہو سکتا تھا، اس کے پاس تو اتنا وقت نہ تھا کہ جا کر اس آدمی کو ڈھونڈھے، اس سے معذرت کرے، اپنی بے ذوقی اور بے ادبی کی معافی مانگے، یا اس کی اعلٰی قدری کا شکریہ ادا کرے۔اسی لیے کہتے ہیں کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ضروری نہیں کہ آپ کی قائم کی ہوئی رائے ہی ٹھیک ہو

Thursday, October 3, 2013

Urdu Story, Sabak Amooz Wakia, Sacha Wakia,: Allah ki Raza



ﻣﯿﺮﮮ ﭼﭽﺎ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺎﻝ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﮐﯿﻼ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﺻﻮﻓﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﺎ - ﻣﯿﺮﮮ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺗﻢ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺅ ﺍﻭﺭ
ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺮﯼ ﺻﺤﺖ ﺑﺤﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﻭﻧﮕﺎ - ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﯽ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ - ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﺷﻔﺎﻕ ﻣﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻢ ﺟﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﯽ ﮨﻢ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﮈﺍﮐﭩﺮ
ﺑﮍﮮ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻧﺎﻣﯽ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ - ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ - ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﯾﺎﺭ ﺟﯿﺖ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻓﯿﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ - ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﮯ - ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ -

ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮕﮭﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﻠﮯ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮﺍﮞ ﺳﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺏ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻢ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﺳﮯ - ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺮﯾﮕﺎ - ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ - ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ - ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﻒ - ﺍﮮ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺗﮭﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺳﻠﯿﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ - ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺎ - ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﻼﺋﯽ ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﮭﺎ - ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ - ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﭼﭽﺎ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ - ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮨﯿﮟ۔ 

ﺯﺍﻭﯾﮧ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺻﻔﺤﮧ 137 ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ, ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ, ﺗﺼﻮﻑ, ﺯﺍﻭﯾﮧ, ﺯﻧﺪﮔﯽ ﯾﺎ ﻣﻮﺕ, ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ

Urdu Story, Sabak Amooz Kahani, Urdu Kahani : Pension



ایک تحریر جو شاید کسی کی زندگی بدل دے-ضرور شیر کریں - شکریہ

اس نے گاڑی پوسٹ آفس کے باہر روک دی، "ابا یہ لیجیے آپ یہ 100 روپے رکھ لیجیے جب پینشن لے چکیں گے تو رکشے میں گھر چلے جائیے گا، مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے"۔۔
بوڑھے باپ کو اُتار کر وہ تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا آگے نکل گیا، افضل چند لمحے بیٹے کی دور جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھتا رہا پھر ایک ہاتھ میں پینشن کے کاغذ اور ایک ہاتھ میں بیٹے کا دیا ہوا سو روپے کا نوٹ پکڑے وہ اُس لمبی سی قطار کے آخرمیں جا کر کھڑا ہو گیا جس میں اُسی جیسے بہت سے بوڑھے کھڑے تھے، سب کے چہروں پر عمر رفتہ کے نشیب و فراز پرانی قبروں پر لگے دُھندلے کتبوں کی مانند کندہ تھے۔

آج پینشن لینے کا دن تھا، قطار لمبی ہوتی جارہی تھی، پوسٹ آفس کی جانب سے پینشن کی رقم ادا کرنے کا عمل خاصا سست تھا۔ سورج آگ برساتا تیزی سے منزلیں طے کرنے میں مصروف تھا، بے رحم تپتی دھوپ بوڑھوں کو بے حال کرنے لگی، کچھ اُدھر ہی قطار میں ہی بیٹھ گئے، افضل بھی بے حال ہونے لگا، اُس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا اور لڑکھڑا کر اُدھر قطار میں ہی بیٹھ گیا،

اچانک ذہن کے پردے پر اپنے بیٹے کا بچپن ناچنے لگا، وہ جب کبھی اچھلتے کودتے گر جاتا تو وہ کیسے دوڑ کر اُسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیتا تھا، اس کے کپڑوں سے دھول جھاڑتا، اُس کے آنسو نکلنے سے پہلے ہی اُسے پچکارتا، پیار کرتا، مگر آج وہ خود لڑکھڑا کر دھول میں لتھڑ رہا تھا اور اُسے اٹھانے والا اُسے یہاں اس طرح چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ وہ مٹھی کھول کر100 روپے کے اس نوٹ کو دیکھنے لگا جو صبح بیٹا اُس کے ہاتھ میں تھما کر چلا گیا تھا، وہ سوچنے لگا کہ ساری عمر ایمانداری سے ملازمت کر کے، بیٹے کو پڑھا لکھا کر، اُس کی شادی کر کے کیا اُس کی زندگی کا سفر اس 100 روپے کے نوٹ پر آ کر ختم ہو گیا ہے؟

Saturday, June 22, 2013

Its all about our Beloved Pakistan




پاکستان دنیا کا واحد ملک ہےجسکی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں آئیے آج ذرا اسکے بارے میں آپکو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!
پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جسکے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی ۔۔۔۔۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی "عظم نو "مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے ۔۔۔۔۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہے باقی امریکن" ایف پاک " ڈاکٹرائین کی زد میں ہے ۔۔۔۔۔۔!!
امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن ( Amrican afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی ہے پاکستان کے خلاف جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے ۔۔۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن کے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے ۔۔۔۔ اس جنگ کے لیے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ہے ۔۔۔۔۔ اسکے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے اور اسکی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اسکو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے !!
فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔۔۔۔ اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور سریا پر آزمایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ہو چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائنگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے ۔۔۔!!
یہ واحد جنگ ہوتی ہے جسکا جواب آرمی نہیں دے سکتی آرمی اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے ۔۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ہے نہ سول حکومتوں کی نہ ہی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ۔۔۔ 
"ہر اس چیز کو رد کر دے جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو" ۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈین کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا انحصار بھی ایف پیک اور فورتھ جنریشن وار کی کامیابی پر ہے
تحریر شاہد خان


Wednesday, June 20, 2012

Nafs k banday - نفس کا ٹیسٹ


بادشاہ نے بہت خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا کہ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا مرشد نے کہا ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے جو میری عقیدت والا ہے اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ، اور مجھ کو مانتا ہے اور باقی کے ایسے ہی ہیں بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے - مرشد نے کہا کہ ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تب آپ کو پتا چلے گا - 

تو انھوں نے کہا کہ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں فوراً رات کی رات میں بنوا دیں - بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی - 

اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے - اور کسی کو پتا نہیں کہ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں - 

اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا - 

ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو ؟ 
میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو - 
اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے - اگر کوئی ایسا ہے تو میرے پاس آئے - 

اب اس پچاس ہزار کے جم غفیر میں سے صرف ایک آدمی اٹھا ، وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ،ڈھیلے پاؤں رکھتا ہوا اس کے پاس گیا 

مرشد نے کہا تجھ میں یہ دم خم ہے ؟ 
اس نے کہا ، ہاں ہے - 

کہا ، آ میرے ساتھ - 

اس نے اس کی کلائی پکڑی اس کو جھگی کے اندر لے گیا اور وہاں کھڑا کر دیا - 

اور کہا خاموشی کے ساتھ کھڑا رہ - 

پھر اس نے ایک بکرے کو لٹایا ، چھری نکالی اور اسے ذبح کر دیا ، جھونپڑی کی نالی کے پاس - 

اور جب وہ خون نکلا تو پچاس ہزار کے گروہ نے دیکھا اور وہ خون آلود چھری لے کر باہر نکلا اور کہا قربانی دینے والے شخص نے قربانی دے دی - 
میں اس سے پوری طرح مطمئن ہوں اس نے بہت اچھا فعل کیا- جب لوگوں نے یہ دیکھا تو حیران اور پریشان ہو گئے - 

اب ان میں سے لوگ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے - کچھ جوتیاں پہن کر کچھ جوتیا چھوڑ کر - 

تو انھوں نے کہا اے لوگو ! قول کے آدمی نہ بننا صرف مضبوطی اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے کی کوشش کرنا - 

اب میں پھر ایک اور صاحب سے کہتا ہوں وہ بھی اپنے آپ کو قربانی دینے کے لئے پیش کرے ، اور میرے پاس آئے کیونکہ یہ اس کے نفس کا ٹیسٹ ہے -

تو سناٹا چھایا ہوا تھا - کوئی آگے نہ بڑھا - اس دوران ایک عورت کھڑی ہوئی تو اس نے کہا ! 
" اے آقا میں تیار ہوں -" 

اس نے کہا ، بیبی آ - 

چنانچہ وہ بیبی چلتے چلتے جھگی میں گئی ، اس بیچاری کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلے کے ساتھ ہوا - 
اندر اسے کھڑا کیا اور دوسرا بکرا ذبح کر دیا ، اور اس کے پرنالے سے خون کے فوارے چھوٹے - 

جب یہ واقعہ ہو چکا تو بادشاہ نے کہا آپ صحیح کہتے تھے ، کیونکہ وہ میدان سارا خالی ہوگیا تھا - 
پچاس ہزار آدمی ان میں سے سے ایک بھی نہیں ہے - 

انھوں نے کہا میں نے کہا تھا میرے ماننے والوں میں سے صرف ڈیڑھ شخص ہے ، جو مانتا ہے - 
بادشاہ نے کہا ہاں میں بھی مان گیا ، اور سمجھ بھی گیا ، اور وہ شخص تھا وہ مرد تھا وہ پورا تھا - جب کہ وہ عورت جو تھی وہ آدھی تھی - 

اس نے کہا نہیں بادشاہ سلامت یہ مرد آدھا تھا اور عورت پوری تھی - 
پہلا جو آیا تھا اس نے کوئی خون نہیں دیکھا تھا - 
اس بیبی نے دیکھا جو واقعہ گزرا پھر بھی اٹھ کر آنے کے لئے تیار ہوئی تھی اس لیے وہ خاتون سالم Entity پر ہے - اور آدھا وہ مرد ہے - 

میرے ماننے والوں میں ڈیڑھ لوگ ہیں باقی سارے نفس کے بندے ہیں - 

از اشفاق احمد زاویہ ١ قول اور نفس صفحہ ٢٥١ 





For More Please visit

To Get Email Alerts of this Blog Please Join.

For All Post summery daily 1 email

For Every post email immediately